Tanhai: The True Test of Character - The Grave Incident and Digital Fitnah
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تنہائی: کردار کا سب سے بڑا امتحان
تنہائی ہی ہمارے کردار کی اصل امتحان گاہ ہے۔ لوگوں کے سامنے تو ہر کوئی نیک بن جاتا ہے، اصل بات وہ ہے جو ہم دروازہ بند کر کے کرتے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
میں چاند کی ابتدائی راتوں میں قبرستان کے پاس سے گزرا تو میں نے ایک مُردے کو قبر سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ وہ زنجیر کھینچ رہا تھا۔ پھر میں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے وہ زنجیر پکڑی ہوئی تھی۔ اس نے باہر نکلنے والے شخص کو اپنی طرف کھینچا اور قبر میں واپس لے گیا۔
پھر میں نے دیکھا کہ وہ شخص اس مُردے کو مار رہا تھا۔ مُردہ کہہ رہا تھا: "کیا میں نماز نہیں پڑھتا تھا؟ کیا میں غسل فرض ہونے پر غسل نہیں کرتا تھا؟ کیا میں روزے نہیں رکھتا تھا؟"
تو اس مارنے والے نے جواب دیا: ہاں، کیوں نہیں۔ تُو واقعی یہ کام تو کرتا تھا۔ مگر جب تُو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا تو اس وقت اللہ سے نہیں ڈرتا تھا"
چھپ کر میوزیکل ویڈیوز، گندے مناظر دیکھنے والو! غور کرو۔
اعلیٰ حضرت کا یہ شعر یاد کرو
_چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبردار ہے، کیا ہونا ہے.
حضرت سلیمان بن علی رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا: "اگر تم تنہائی میں گناہ کرتے ہوئے یہ سمجھو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے تو تم نے بڑی جسارت کی، اور اگر تمہارا خیال ہو کہ وہ تمہیں دیکھ نہیں رہا تو تم نے کفر کیا"
کیونکہ کراماً کاتبین تو سب کچھ لکھ رہے ہیں۔ نامہ اعمال میں ایک چیز محفوظ ہو رہی ہے۔
ڈیجیٹل دور کا فتنہ: سوشل میڈیا اور تنہائی
رسولِ کریم ﷺ کا فرمان ہے: "جو کام لوگوں کے سامنے کرنے کو ناپسند کرتے ہو، وہ تنہائی میں بھی نہ کیا کرو"آج نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا کے ڈیجیٹل نشےمیں مبتلا ہے۔
- اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی 8 ارب ہے جبکہ موبائل فون یوزرز 7 ارب سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے 5 ارب کے قریب لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور سوا چار ارب لوگ سوشل میڈیا پر ہیں۔
- سوشل میڈیا ہماری اچھائیوں اور برائیوں دونوں میں اضافہ کر سکتا ہے، بالخصوص تنہائی میں اس کے برے استعمال کا رسک بہت بڑھ جاتا ہے
- اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی 8 ارب ہے جبکہ موبائل فون یوزرز 7 ارب سے زیادہ ہیں۔ ان میں سے 5 ارب کے قریب لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور سوا چار ارب لوگ سوشل میڈیا پر ہیں۔
- سوشل میڈیا ہماری اچھائیوں اور برائیوں دونوں میں اضافہ کر سکتا ہے، بالخصوص تنہائی میں اس کے برے استعمال کا رسک بہت بڑھ جاتا ہے
قسم کے لوگ ہیں
- بے باک گناہ گار انہیں لوگوں کے سامنے یا تنہائی میں، گانے سننے، بےحیا ڈانس، فحش ڈرامے دیکھنے پر کوئی شرم نہیں۔ وہ فیک فوٹوز، فیک نیوز اور غلیظ کاموں کے لیے بھی تنہائی کا انتخاب کرتے ہیں۔
- ظاہراً نیک لوگ: لوگ انہیں شریف سمجھتے ہیں، مگر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر وہی سارے گندے کام تنہائی میں کرتے ہیں۔ موبائل پر کوڈ، لاک، ہسٹری ڈیلیٹ کر کے پکڑے جانے سے بچتے ہیں۔
یاد رکھیں: اللہ دیکھ رہا ہے۔ یہ غلط فہمی دل سے نکال دیں کہ کوئی نہیں دیکھ رہا۔ اِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ - بے شک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
اس لیے ایک مسلمان کو تنہائی میں بھی اللہ کی فرمانبرداری کرنی چاہیے، نہ کہ نافرمانی۔
چھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ
وہ خبردار ہے، کیا ہونا ہے
آپ کے لیے عمل کا پیغام
کیا آپ تنہائی میں قرآن کی روشنی چاہتے ہیں؟
دل کو سکون اور گناہوں سے بچنے کے لیے قرآن سے جڑنا سب سے بہتر راستہ ہے۔
Tanhai: The True Test of Character - The Grave Incident and Digital Fitnah
- Unabashed Sinners: They have no shame in listening to music, watching immodest dances, or obscene dramas, whether in public or solitude. They also choose solitude to create fake photos, fake news, and other filthy acts.
- Apparently Pious People People consider them righteous, but under the influence of the self and Shaytan, they commit all those filthy acts in solitude. They use codes, locks, and delete historyon their phones to avoid getting caught.
The One who



0 Comments