Islamic History Seerat-un-Nabi and Sahaba ki Haqeeqi Kahaniyan.

Hearts That Chose the Prophet ﷺ Above Everything

Green Dome of Masjid Nabawi with Urdu calligraphy Fidak e Roohi Ya Rasool Allah - Love for Prophet Muhammad PBUHکل رات میں نے ابن سعد کی "الطبقات" میں کچھ ایسا پڑھا جس نے مجھے اندر تک، بہت ہی اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا! کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کچھ پڑھتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اسے اپنے نفس کی کم مائیگی اور چھوٹے پن کا احساس ہونے لگتا ہے! کہ کچھ لوگ اپنے دلوں کے معاملے میں ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں! اور اس سے پہلے کہ میں بات لمبی کروں اور آپ کو انتظار پر لٹکا کر رکھوں، میں آپ کو بتاتا ہوں:
ابن سعد نے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے، تو آپ ﷺ نے ایک سال یا اس کے لگ بھگ ابو ایوب انصاری کے گھر قیام فرمایا۔ پھر جب علی رضی اللہ عنہ کا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: "کوئی گھر تلاش کرو!" چناچہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک گھر تلاش کیا، لیکن وہ نبی کریم ﷺ سے تھوڑا دور تھا۔ تو نبی کریم ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اپنے پاس منتقل کر لوں!" انہوں نے عرض کیا: "آپ حارثہ بن النعمان سے بات کیجیے کہ وہ (دوسرے گھر) منتقل ہو جائیں۔" اور حارثہ کا گھر ابو ایوب کے گھر کے قریب ہی تھا! تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: "حارثہ ہمارے لیے اتنی بار اپنے گھروں سے منتقل ہو چکے ہیں کہ اب مجھے ان سے حیا آنے لگی ہے!" جب یہ بات حارثہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ فاطمہ کو اپنے پاس منتقل کرنا چاہتے ہیں، اور یہ میرے گھر بنو نجار کے گھروں میں سے آپ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ تو میں اور میرا مال سب اللہ اور اس کے رسول ہی کا ہے، اور جو مال آپ مجھ سے لے لیں وہ مجھے اس مال سے زیادہ پیارا ہے جسے آپ چھوڑ دیں!" تو نبی کریم ﷺ نے ان کے لیے خیر کی دعا فرمائی! پھر آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان کے پرانے گھر سے حارثہ کے گھر منتقل کر دیا جو آپ ﷺ کے پڑوس میں تھا!
اے میرے دوست! ذرا اس محبت کا تصور کرو! کہ نبی کریم ﷺ اور ان کی بیٹی کے درمیان گھر ذرا دور ہو جائیں، اور تمہارے گھر کے سوا کوئی دوسرا گھر ان دو محبوبوں کو قریب نہ لا سکتا ہو، تو تم آپ ﷺ کے پاس آؤ اور عرض کرو: یا رسول اللہ، میرا سب کچھ آپ پر قربان! یہ صرف کہنے کی حد تک نہیں بلکہ کر کے دکھانے کی بات ہے! تم اپنا گھر ان کی بیٹی کے لیے چھوڑ دو کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ کو ان کا قرب پسند ہے، یا اللہ! یہ ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سیرت کی کتابوں نے اسے ثابت نہ کیا ہوتا، تو ہم کہتے کہ یہ تو محض تخیل کا ایک رنگ ہے!

اے میرے دوست!
صرف نبوت ہی چناؤ (اصطفاء) نہیں ہے، بلکہ صحبیت بھی ایک چناؤ ہے! جس نے اپنے نبی کو تمام انسانوں میں سے چنا، اس نے اپنے نبی کے لیے ان کے صحابہ کو بھی تمام انسانوں میں سے چنا ہے!
ذرا ہجرت کے دن کا تصور کریں جب ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کو پینے کے لیے دودھ کا پیالہ پیش کرتے ہیں، اور پھر کہتے ہیں: "پس نبی ﷺ نے نوش فرمایا یہاں تک کہ میں راضی ہو گیا!" ذرا اس محبت کا تصور کرو، یہ کتنی عظیم ہے! کہ نبی کریم ﷺ نوش فرمائیں اور سیراب ابو بکر ہو جائیں! اور ذرا بدر کے دن کو دیکھو، جو تلوار کے ساتھ اسلام کا پہلا عہد تھا، اس میں محبت کس طرح کھل کر سامنے آئی، محبت تو نام ہی مواقف (مواقع پر ڈٹ جانے) کا ہے!

"اے لوگو، مجھے مشورہ دو،" نبی کریم ﷺ اس جملے کو دہراتے ہیں۔ تو حضرت ابو بکر کھڑے ہو کر اچھی بات کہتے ہیں، اور حضرت عمر بھی اچھی بات کہتے ہیں، لیکن نبی کریم ﷺ پھر بھی یہی دہراتے چلے جاتے ہیں: "اے لوگو، مجھے مشورہ دو!" تو حضرت سعد بن معاذ اپنی ذہانت سے بھانپ جاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی مراد انصار سے ہے! چناچہ وہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! گویا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں!" تو سعد نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ، یہ ہمارے مال آپ کے سامنے حاضر ہیں، ان میں سے جو چاہیں لے لیں اور جو چاہیں چھوڑ دیں، اور جو مال آپ ان میں سے لے لیں گے وہ ہمیں اس مال سے زیادہ پیارا ہوگا جسے آپ چھوڑ دیں گے۔ اور اگر آپ ہمارے سامنے اس سمندر کا رخ کر لیں اور اس میں اتر جائیں، تو ہم بھی آپ کے ساتھ اس میں کود پڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا! ہم جنگ میں صبر کرنے والے اور دشمن سے آمنے سامنے ہونے پر سچے ثابت ہونے والے لوگ ہیں، پس آپ ہمیں لے کر چلیے جہاں کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے!"

گویا وہ آپ ﷺ سے کہہ رہے ہوں: ہم سب آپ پر قربان اور آپ کے حکم کے تابع ہیں، ہم آپ کی کمان کے تیر ہیں، جہاں چاہیں ہمیں چلا دیں! 

اے میرے دوست! کیا تم نے ایسی محبت کہیں دیکھی ہے۔۔؟ اگر تم نے دیکھی ہو تو الگ بات ہے، ورنہ اللہ کی قسم میں نے تو نہیں دیکھی!پھر احد کا معرکہ ہوا، اور پہاڑی سے تیر اندازوں کے نیچے اترنے کی وجہ سے مسلمان پہلے کی پیش قدمی کے بعد بکھر گئے۔ اور اس کٹھن موڑ پر صحابہ نے اپنے جسموں سے نبی کریم ﷺ کے گرد ایک باڑھ (حصار) بنا لی، اور ابو طلحہ آپ ﷺ کے آگے کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے سے آپ ﷺ کی حفاظت کرنے لگے اور کہنے لگے: "یا رسول اللہ، میرا سینہ آپ کے سینے کے آگے ڈھال ہے!" واہ رے محبت، اے ابو طلحہ! تم اس بات کے لیے تیار ہو کہ خود مر جاؤ لیکن تمہارے محبوب کو ایک کانٹا تک نہ چبھے! اور جب نبی کریم ﷺ زخموں سے چور ہو گئے، اور خون بہنے اور دوہری زرہ پہننے کی وجہ سے آپ ﷺ کے لیے ایک چٹان پر چڑھنا بوجھل ہو گیا، تو طلحہ بن عبید اللہ آگے بڑھے اور اپنی پیٹھ جھکا دی تاکہ نبی کریم ﷺ اس پر قدم رکھ کر اوپر چڑھ سکیں۔ پس جب آپ ﷺ اس پر چڑھ گئے تو فرمایا: "طلحہ نے (اپنے لیے جنت) واجب کر لی!" وہ صرف ڈھال ہی نہیں تھے، بلکہ وہ تو سیڑھیاں بن گئے تھے تاکہ ان کا محبوب اوپر چڑھ سکے، تو کیا تم نے تاریخ میں کبھی ایسا کچھ سنا ہے؟ اللہ کی قسم، میں نے تو نہیں سنا!

اے میرے دوست! 
وہ شدید محبت کی وجہ سے آپ ﷺ کی جدائی برداشت نہیں کر پاتے تھے۔ یہ ثوبان ہیں جن سے نبی کریم ﷺ نے پوچھا: "اے ثوبان، تمہارا رنگ کس چیز نے بدل دیا؟" تو انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ، مجھے کوئی بیماری یا تکلیف نہیں ہے، سوائے اس کے کہ جب میں آپ کو نہیں دیکھتا تو مجھے آپ سے ملنے تک شدید وحشت اور اکیلاپن محسوس ہوتا ہے! پھر مجھے آخرت یاد آئی، تو مجھے ڈر لگا کہ میں وہاں آپ کو دیکھ نہیں پاؤں گا، کیونکہ آپ تو انبیاء کے ساتھ بلند ترین مقام پر اٹھا لیے جائیں گے، اور میں اگر جنت میں داخل ہوا بھی تو آپ کے مرتبے سے نیچے کے درجے میں ہوں گا، اور اگر جنت میں داخل نہ ہوا تو پھر آپ کو کبھی دیکھ ہی نہیں سکوں گا!" اے پڑھنے والے! کیا تم نے کبھی کسی محبوب کے شوق اور تڑپ کے بارے میں سنا ہے جو مشتاق کے چہرے کا رنگ ہی بدل دے؟! اللہ کی قسم، میں نے تو نہیں سنا!

اے دنیا کی محبت محو انسان! کیا تمہارے پاس بنو دینار کی اس خاتون کی خبر پہنچی ہے، جس کا شوہر، اس کا بھائی اور اس کا باپ احد کے دن شہید ہو گئے تھے؟ جب لوگوں نے اسے ان کی موت کی خبر دی تو اس نے پوچھا: "رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟" لوگوں نے کہا: "وہ خیریت سے ہیں!" تو اس نے کہا: "مجھے آپ ﷺ کو دکھاؤ تاکہ میں خود آپ کو دیکھ لوں!" پس جب اس نے آپ ﷺ کو دیکھ لیا تو عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ کے سلامت رہنے کے بعد ہر مصیبت ہلکی اور معمولی ہے!" واہ رے محبت، واہ رے محبت! ایک ایسی عورت جو اپنے شوہر، اپنے بیٹے اور اپنے باپ کے کھو جانے کے غم سے نڈھال ہے، وہ پوچھتی ہے: رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ ان کے نزدیک پوری دنیا کی کوئی حیثیت نہیں تھی جب تک آپ ﷺ خیریت سے تھے!
اللہ رب العزت مجھے اور آپ کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی وہ سچی تڑپ اور وہ والہانہ کیفیت عطا فرمائے جو ان نفوسِ قدسیہ کا سرمایہ تھی۔ وہ عشق جو صرف زبان تک محدود نہ ہو، بلکہ ہمارے وجود، ہمارے فیصلوں اور ہماری زندگیوں سے چھلکتا دکھائی دے۔

May my soul be sacrificed for you, O Messenger of Allah ﷺ

Last night I read something in Ibn Sa’d’s Al-Tabaqat that shook me to my core deep inside my heart. Sometimes it happens that when a person reads something, he suddenly realizes his own weakness and smallness. He feels that there were people whose hearts were far greater and purer than ours.

Before I go further, let me tell you what I read:
Ibn Sa’d narrates that when the Prophet ﷺ migrated to Madinah, he stayed for about a year in the house of Abu Ayyub al-Ansari (RA). Later, when Ali (RA) married Fatimah (RA), the Prophet ﷺ said to them, “Look for a house (closer to me).” So Ali (RA) found a house, but it was a little far from the Prophet ﷺ.
The Prophet ﷺ then came to Fatimah (RA) and said, “I want to bring you closer to me.” She replied, “Then speak to Harithah ibn al-Nu’man so he can move from his house.” His house was near that of Abu Ayyub (RA).
So the Prophet ﷺ said, “Harithah has already moved houses for us so many times that I now feel shy to ask him again.”
When Harithah (RA) heard this, he came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah! I have heard that you wish to bring Fatimah closer to you. My house is the closest among the houses of Banu Najjar to you. By Allah, I and all my wealth belong to Allah and His Messenger. Whatever you take from me is more beloved to me than what you leave behind.”
The Prophet ﷺ made du‘a for him with goodness, and then Fatimah (RA) was moved to his house, which was closer to the Prophet ﷺ.
O my friend! Just imagine this love when even distance between the Prophet ﷺ and his daughter was unbearable for a companion, and he was ready to sacrifice everything so they could be near him.

Love of the Companions
Only prophethood is not a chosen rank companionship is also a chosen honor. The One who chose His Prophet ﷺ from all creation also chose companions for him from all creation.
Think of the migration day when Abu Bakr (RA) offered milk to the Prophet ﷺ, and he drank until Abu Bakr said, “I was satisfied.” What immense love!
Think of Badr, the first great battle of Islam, where love appeared through action and loyalty.
The Prophet ﷺ said, “Advise me,” repeatedly. Abu Bakr (RA) spoke, Umar (RA) spoke but the Prophet ﷺ kept repeating. Then Sa‘d ibn Mu‘adh (RA) understood that the Prophet ﷺ was addressing the Ansar.

Sa‘d stood and said: 'O Messenger of Allah! It seems you are referring to us. By Allah, our wealth is at your disposal. Take whatever you wish and leave whatever you wish. Whatever you take is more beloved to us than what you leave. If you were to command us to enter the sea, we would enter it with you. Not a single man among us would stay behind.,

What absolute submission and love!

Battle of Uhud
At Uhud, when Muslims became scattered, the Companions formed a human shield around the Prophet ﷺ. Abu Talhah (RA) stood in front of him and used his body as protection, saying: “My chest is a shield for your chest, O Messenger of Allah!”

Talhah ibn Ubaydullah (RA) bent his back so the Prophet ﷺ could step on him to climb a rock. The Prophet ﷺ said: “Talhah has made Paradise obligatory for himself.”

What kind of love is this that one becomes a stepping stone so the beloved may rise?

Thirst of Love
Thawban (RA) once told the Prophet ﷺ that he felt extreme loneliness when he did not see him, and feared he might not be with him in the Hereafter because of the difference in ranks.What longing and love this was!

The Woman of Banu Dinar
A woman from Banu Dinar lost her husband, brother, and father in Uhud. When people informed her, she asked, “What happened to the Messenger of Allah ﷺ?”When she saw that he was safe, she said: “After seeing you safe, every calamity becomes insignificant.”
May Allah grant us even a small portion of this true love and longing for the Prophet ﷺ the love that lived in their hearts and was reflected in their actions, not just words.Ameen

Note: This article is for educational purposes only. For authentic Islamic knowledge, please refer to Quran, Hadith and Ulema.

Post a Comment

0 Comments